Placeholder image

انکم ٹیکس

انکم ٹیکس

انکم ٹیکس

کسی شخص    پر  اُس کی  استطاعت کے مطابق ٹیکس  عائد کرنے کا اصول دنیا بھر میں تسلیم شدہ ہے، اور آمدن کو عام طور پر اس استطاعت  کا ایک معقول (اگرچہ پورے طور پر نہیں) پیما نہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس بنا پر انکم ٹیکس کو ایک انتہائی منصفانہ ٹیکس کی شکل میں تسلیم کیا جاتا ہے۔ آمدن پر عائد ٹیکس عام طور پر دوسروں پر منتقل نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا اس کا بوجھ براہ راست اسی پر پڑتا ہے جس  پر عائد کیا گیا ہو۔ چونکہ انکم ٹیکس ایک بتدریج بڑھتی ہوئی نوعیت کا ٹیکس ہے، اس لیے یہ اقتصادی عدم مساوات کو کم کرنے میں معاون ہوتا ہے۔ ٹیکس کی شرحیں اور قابلِ ٹیکس آمدن کا حساب لگانے کا طریقہ کار ٹیکس دہندہ کی مالی حیثیت کے مطابق مختلف ہوتا ہے۔ ٹیکس دہندگان کی عمومی اقسام درج ذیل ہیں

کمپنیاں
افراد کی انجمنیں  (AOP)
غیر تنخواہ دار افراد
تنخواہ دار افراد

کیپیٹل ویلیو ٹیکس

یہ ٹیکس ان افراد، فرموں اور کمپنیوں پر عائد ہوتا ہے جو کوئی اثاثہ خرید کر حاصل کرتے ہیں یا 20 سال سے زائد عرصے کے لیے اس کے استعمال کا حق حاصل کرتے ہیں۔یہ ٹیکس ان افراد، فرموں اور کمپنیوں پر عائد ہوتا ہے جو کوئی اثاثہ خرید کر حاصل کرتے ہیں یا 20 سال سے زائد عرصے کے لیے اس کے استعمال کا حق حاصل کرتے ہیں۔

کارپوریٹ اثاثہ ٹیکس

یہ ٹیکس فنانس ایکٹ 1991 کی دفعہ 12 کے تحت عائد کیا جاتا ہے۔ یہ ایک مرتبہ وصول کیا جانے والا ٹیکس ہے، جو کمپنیز آرڈیننس 1984 میں بیان کردہ کسی بھی کمپنی پر لاگو ہوتا ہے، اور یہ "مخصوص تاریخ" پر کمپنی  کے مقرر شدہ اثاثہ جات  کی مالیت پر ایک ہی مرتبہ  وصول کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ کمپنیزآرڈیننس 1984  میں بیان کیا گیا ہے۔